ابنا: 7 جولائی 2012ء کو اسلامی بیداری کانفرنس برائے خواتین میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان سے ہمارا گروپ اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی اور وہاں سے تہران کے لیے روانہ ہوا۔ تہران ایئرپورٹ پہنچنے پر کانفرنس کی منتظم خواتین ہمارے استقبال کے لیے موجود تھیں۔ تہران ایئر پورٹ سے شرکاء کے قافلے کو بذریعہ بس ہوٹل استقلال لے جایا گیا۔ تمام خواتین کی قہوہ سے پذیرائی ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی اعلان کیا گیا کہ اگر مرقد خمینی (رہ) پر جانا ہے تو 4 بجے لابی میں آجائیں۔ ہمارے گروہ میں کچھ خواہران نے آرام کرنے کا فیصلہ کیا اور کچھ نے امام (رہ) کے مرقد پر جانے کا۔ ہم آرام کرکے ایک گھنٹہ بعد لابی میں آگئے۔ ایران کی خواہران سے بات چیت شروع ہوئی۔ میزبان خواتین نے ہمارے کانفرنس کے حوالے سے تاثرات لیے اور عالم اسلام میں بیداری اسلامی کی لہر کے بارے میں ہماری رائے لی، بعدازاں ہم نے آپس میں فون نمبرز اور ای میل کا تبادلہ کیا۔
9 جولائی بروز پیر صبح نماز کے وقت ہماری میزبان خانم کربلائی نے ہمیں فون کرکے جگایا کہ تیار ہو کے آجائیں، ناشتہ کریں، بسیں تیار ہیں، قم جانا ہے۔ ہم فوراً لابی میں آگئے۔ وہاں سے ڈائننگ ہال پہنچے، جہاں ناشتہ میں بھی ہمارے میزبانوں نے خدا کی ہزاروں نعمتوں کو ہمارے لیے تیار کر رکھا تھا۔ ناشتہ کرکے ہم لوگ قم روانہ ہوئے، جہاں پہلے ہمیں بی بی معصومہ قم کے گھر بیت نور لے جایا گیا۔ بیت نور کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہاں بی بی اپنے آخری ایام زندگی میں رہی تھیں۔ بعد میں ہمیں حرم بی بی پاک (س) لے جایا گیا، جہاں باجماعت نماز پڑھی۔ بی بی کے مرقد پاک کی زیارت کی۔
ہمارے گروپ کی خواہران کو میری ایک دوست بازار لے گئیں، جہاں سے انھوں نے ایرانی چادر خریدی اور عقیق کے پتھر، تسبیح وغیرہ بھی خریدے اور فوراً سب ہوٹل خورشید، دیے گئے ٹائم کے مطابق 2:30 پر پہنچ گئے۔ وہاں ہمارے لیے ظہرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ کھانا کھا کر ہم واپس تہران کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں امام خمینی (رہ) کے مرقد پر حاضری دی اور وہاں سے اپنی قیام گاہ استقلال ہوٹل پہنچے، جہاں نماز پڑھی، رات کا کھانا کھایا اور لابی میں بیٹھ کے دوسرے ملکوں سے آئی ہوئی خواتین کے ساتھ گفت وشنید ہوئی۔
10 جولائی بروز منگل بیداری اسلامی کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تہران کے برج میلاد کے کنونشن آڈیٹوریم میں ہوا۔ جس میں 85 ملکوں کی 1500 خواتین نے شرکت کی۔ خواتین کا جوش و خروش اس وقت عروج پر پہنچا جب صدر احمدی نژاد ہال میں داخل ہوئے۔ تمام خواتین ان کے احترام میں کھڑی ہو گئیں۔ ہال اللہ اکبر اور صلوة سے گونج اٹھا۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ خواتین میزبان نے تمام مہمان خواتین کو کانفرنس میں خوش آمدید کہا۔ ایرانی ترانہ سنایا گیا۔ احترام میں شرکاء ہال کھڑے ہوگئے۔ پھر انقلاب اسلامی اور ایرانی ثقافت پر مبنی ڈاکو مینٹری فلم لگائی گئی۔ اس میں انقلابی میوزک بھی تھا۔ خواتین پرجوش انداز میں تالیاں بجاتی رہیں اور انقلاب اسلامی ایران کی قربانیوں کو دیکھ کر روتی بھی رہیں۔ پھر میزبان کو ایک رپورٹ پیش کرنے کے لیے بلایا گیا، جنھوں نے کہا کہ ہمیں آپس میں بیٹھ کر عالم اسلام کے بارے میں فکر کرنی چاہیے۔ عالم اسلام کے اہداف کو آگے بڑھانا چاہیے۔ مسلمان خواتین نمونہ عمل ہیں۔ وہ اپنے پورے وجود سے اسلامی بیداری میں شریک کار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں 6 ماہرانہ کمیشن بنائے جائیں گے۔ جن میں وہ مقالے پڑھے جائیں گے، جو کانفرنس کے سلسلے میں موصول ہوئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اس کانفرنس کے لیے تقریباً 500 سے زیادہ مقالے موصول ہوئے، جو زیادہ تر عربی زبان میں تھے۔ 6 کمیشنز کی میٹنگز کا اہتمام مختلف ہالوں میں کیا گیا۔ کانفرنس میں شریک خواتین کو تقسیم کرکے ان ہالوں میں بھیجا گیا، تاکہ وہ بھی یہ مقالے سن سکیں۔ افسوس ہمارے ہال میں عربی میں مقالے تھے اور ٹرانسلیشن کا انتظام نہیں تھا۔ بعد میں ڈاکٹر ولایتی آئے اور مترجمین کا انتظام کیا۔
لبنان، فلسطین، مصر، تیونس، پاکستان کی سر برآوردہ خواتین نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی موجودگی میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس کی پہلی نشست میں ہی ایران کے محبوب صدر احمدی نژاد کا خطاب تھا۔ انھوں نے کہا آج سامراجی طاقتیں، اقوام عالم کو اپنے تسلط میں لیے ہوئے ہیں اور دنیا کے ہر گھر میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عالمی حالات میں بنیادی تبدیلی انسانیت کی بیداری ہے۔ انسانوں کی بیداری کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔ امریکا، افریقہ، ایشیا دنیا کے تمام گوشوں میں ایک ساتھ اصلاح ہونی چاہیے۔
ان کے خطاب کے بعد پہلی نشست ختم ہوئی۔ دوسری نشست میں وہ مقالے پڑھے گئے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اس رات قاضی حسین احمد کی صاحبزادی سمعیہ راحیل قاضی نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام پاکستانی آج رات نماز خانہ میں جمع ہوں، تاکہ ہم آپس میں ایک دوسرے کو جان سکیں۔ ہم سب پاکستان سے الگ الگ آئے تھے۔ پہلے سے کوئی آشنائی نہیں تھی، اس لیے کانفرنس ہال میں بھی الگ تھلگ تھے۔ اس رات تمام پاکستانی خواتین ایک جگہ جمع ہوئیں۔ سب ایک دوسرے سے متعارف ہوئیں اور ایک دوسرے سے رابطہ نمبرز کا تبادلہ ہوا، تاکہ پاکستان میں جا کر بھی آپس میں مربوط رہا جاسکے۔ اس طرح 10جولائی کا دن گیا اور رات بھی گزر گئی۔ نماز کا وقت ہوگیا اور جاگنے کا بھی۔ بس ایک گھنٹہ سوئے پھر ناشتے کے لیے ڈائننگ ہال میں پہنچے اور پھر وہاں سے بسوں میں روانہ ہوئے۔
سخت چیکنگ کے بعد ایک مسجد میں داخل ہوئے جو ایران کے روحانی پیشوا، رہبر معظم کے گھر کے ساتھ ہے تو معلوم ہوا کہ آج رہبر معظم سے ملاقات ہے۔ دل تھا کہ یقین نہیں کر رہا تھا کہ ایک حسین خواب جس کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا کہ ایک روز یوں اچانک پورا ہو جائے گا، حقیقت کا روپ دھارنے کا منتظر تھا۔ میں اپنے بابا جان ثاقب اکبر کی تہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھے اس مقام پر لاکھڑا کیا کہ میں بھی کانفرنس میں شریک ہوئی اور رہبر معظم سے ملاقات کی سعادت حاصل کر سکی۔ کیا لمحات تھے کہ اک دم شور ہوا، رہبر اندر داخل ہوئے عقیدت اور شوق کے آنسو تھے کہ رک ہی نہیں رہے تھے۔ نظریں تھیں کہ اس نور کے پتلے کا طواف کر رہی تھیں۔ بس خواب تھا کہ حقیقت، معلوم نہیں لیکن رہبر جن پر جان بھی قربان ہے کو دیکھ لیا۔
دوسری نشست کے لیے ہمیں پھر میلاد ٹاور لے جایا گیا۔ جہاں مختلف ملکوں سے آئی ہوئی خواتین کے خطاب تھے، انٹرویوز ہو رہے تھے، نمائش لگی ہوئی تھی۔ اس نمائش میں ایک بچی کو دیکھا جو اپنے پاﺅں سے بہت ہی خوبصورت پینٹنگ بنا رہی تھی۔ وہاں ہمیں لیپ ٹاپ بھی دیے گئے اور مجھے تو بس (اپنے شوہر) مرتضٰی سے بات کرنے کا بہانہ مل گیا۔ مرتضٰی سے آن لائن بات کی۔ ساری نمائش دیکھی، رہبر معظم کی تصویریں ہمیں دی گئیں۔ کانفرنس میں ناشتے کا پرتکلف انتظام ہوتا تھا جوس، کافی، قہوہ، فروٹ کیک اور میزبان خواتین بہت پر خلوص ہو کر سرو کرتی تھیں۔
کانفرنس کا اختتام رات 12:00 بجے ہوا۔ رات 1:30 بجے تک ہوٹل استقلال واپس پہنچے اور رات کا کھانا کھایا۔ اس کانفرنس میں 85 ملکوں کی خواتین سے رابطہ کرنے کے لیے ان کی ہی ہم زبان ایرانی راہنما میزبان ان کو دی گئی تھیں، جو ان کا ہر وقت خیال رکھتی تھیں۔ جب سب سو جاتے تب وہ سوتیں اور سب کے جاگنے سے پہلے جاگ کر اپنی مہمان خواتین کو فون کرکے جگاتی تھیں۔ ان کے آرام، کھانے اور سفر کا خیال رکھتیں۔ ڈاکٹر کا بھی انتظام تھا۔ ہوٹل میں ہماری راہنما خانم کربلائی اور خانم زینب تھیں، جن کا تعلق ایران کے شہر مشہد سے تھا۔ وہ ہمارا بہت خیال رکھتی تھیں، ہمیں جمع کرکے ایک جگہ ساتھ لے جانا۔ جب تک سب جمع نہ ہوجائیں ڈھونڈتے پھرنا، نہ ان کو آرام کی خبر تھی نہ کھانے کا ہوش، پھر بھی تروتازہ، فریش، جذبہ ایمانی سے لبریز۔ ہماری خدمت دل و جان سے کرتی تھیں۔
کانفرنس کے اختتام کے بعد انھوں نے کہا کہ 3:30 نیچے لابی میں آجائیں، مشہد جانا ہے۔ مشہد کا سن کے تو جیسے ساری تھکن دور ہوگئی۔ اپنے اپنے سامان پیک کئے کیونکہ ہم لوگوں نے اسی رات ہوٹل سے چیک آﺅٹ کرنا تھا۔ جنھوں نے مشہد جانا تھا ان کے لیے 5:00 بجے صبح کی فلائٹ تھی۔ مشہد میں ہوٹل بزرگ قرطبہ میں ہمیں لے جایا گیا، جہاں ہمیں ناشتہ کروایا گیا اور کمرے دیئے گئے کہ دو گھنٹے آرام کرلیں پھر کھانا کھا کے امام رضا علیہ السلام کے حرم مبارک جانا ہے۔ اپنے اپنے کمرے میں جا کر ایسے بے خبر سوئے کہ خانم کربلائی کے فون پر جاگے۔ وضو کیا، لابی میں گئے کھانا تیار تھا۔ کھانا کھایا اور بس میں بیٹھ کہ حرم امام رضا (ع) روانہ ہو گئے۔
تقریباً 4 بسیں اور تھیں۔ جب ہم پہنچے تو گلاب کا عرق چھڑکا گیا، ہم سب کو چادر دی گئی۔ ہرے رنگ کے رومال جو گلے میں ڈالنے تھے وہ بھی دیئے گئے، سب ایک یونیفارم میں آگئے۔ فوٹو گرافر، مووی میکر آگئے پھر سب کو ایک گروپ کی صورت میں اندر لے جا کر زیارت امام رضا پڑھی گئی۔ پھر سب سے کہا کہ وہ امام رضا (ع) کی مرقد کی زیارت کر آئیں۔ حرم کا منظر عجیب تھا۔ ساری دنیا جیسے وہاں آ گئی ہو۔ ایسے جیسے امام رضا سامنے ہوں۔ آنسو تھے کہ رکتے نہیں تھے۔ دعائیں جیسے خود لبوں پر آ گئی ہوں کہ آج انھیں یہاں ہی مستحاب ہونا ہے۔ غم آنسوﺅں کی شکل میں بہ گئے۔
پھر ہمیں حرم میں ہی ایک مسجد میں لے جایا گیا۔ عرق گلاب کا شربت اور بسکٹ دیے گئے۔ نماز با جماعت ادا کی گئی۔ شب جمعہ تھی، دعائے کمیل پڑھی گئی۔ کیا دن ملا امام کی زیارت کو شب جمعہ، عبادت کا بھی لطف آ گیا، پھر ہمیں 5 منٹ کے لیے حرم کے ایک بازار میں لے جایا گیا فوراً کہا کہ آدھے لوگ ابھی واپس جا رہے ہیں، آدھے صبح جائیں گے۔ ہم لوگوں کی فلائٹ صبح 5:00 بجے کی تھی۔ دو گھنٹے سوئے پھر ایئر پورٹ پہنچے اور وہاں سے تہران روانہ ہوگئے۔ وہاں سے آدھ گھنٹے کے لیے ہمیں ہوٹل استقلال لایا گیا، ناشتہ تیار تھا۔ ابھی کرنے لگے تھے کہ اعلان ہوگیا کہ پاکستانی آجائیں۔ میرے ساتھ جو خواہران ایران گئی تھیں انھوں نے کہا کہ رات مشہد میں ہمیں وہ سکون ملا جو کبھی نہیں ملا تھا، وہاں بہت روحانیت ہے۔
خواہران بہت متاثر ہوئیں کہ ایران کی خاتون ہر فیلڈ میں بہت ایکٹیو ہے۔ اتنی بڑی کانفرنس کا سارا نظم و ضبط خواتین کے ہاتھ میں تھا۔ ہوٹل استقلال میں بھی مختلف خواہران کاﺅنٹر پر ہماری مدد کے لیے تھیں۔ ہمیں ایران پہنچتے ہی ایرانی موبائل سم بھی دے دی گئی۔ پاکستانی خواتین نے کہا کہ یہ لوگ بہت اچھے میزبان ہیں۔ ہمیں جہاں جہاں بسوں پر لے کر گئے سارے راستے فروٹ، کیک، جوسز، پانی کی بوتل، غرض ہر طرح سے خیال رکھتے رہے۔ کبھی کوئی مسئلہ ہو تاتو خانم کربلائی فوراً حاضر ہوجاتیں۔ مشہد میں امام رضا کے دستر خوان پر ہمیں رات کا کھانا کھلایا گیا۔ سب نے کہا کہ اتنا مزیدار کھانا آج تک نہیں کھایا جو بچا لوگ تبرک کے